نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا


  آج جو موضوع مجھے تقریرکیلئے دیا گیاہے وہ ہے نامی کوئی بغیر مشقت نہیں ہوا۔ اگر ہم تاریخ کا بغور جائزہ لیں تو جتنی بھی عظیم شخصیات ہیں انہوں نے محنت ولگن سے اپنا نا م پیدا کیا۔ اگرچہ وہ امیر گھرانوں یا محلو ں میں پیدا نہیں ہوئے تھے لیکن انہوں نے اپنی زندگی میں ہمیشہ محنت کو اپنا ہدف رکھا اور یہی انکی کامیابی کا موجب ہوا۔اُنکے والدین نے اُنکے منہ میں سونے کا چمچ نہیں ڈالاتھا۔غربت ، افلاس اور حالتِ کسمپرسی نے گہرے نقوش اُنکے حالاتِ زندگی پر چھوڑے لیکن اُنہوں نے محنت ومشقت، ایمانداری، صبر و استقلال کا دامن کبھی اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑا۔یہی وجہ ہے کہ کا میابی نے اُنکے قدم چومے اور آج تاریخ بھی انکی گواہی دیتی ہے ۔

مٹادے اپنی ہستی کو اگرکچھ مرتبہ چاہیے 
کہ داناخاک میں ملکر گلِ گلزار بنتاہے
سستی و کاہلی محنت کا متضاد ہے اور جو لوگ شیخ چلی کے پیروکار ہیں وہ کبھی بھی محنت و مشقت کو خاطر میں نہیں لاتے اور دن رات خوابوں میں اپنی کامیابی کو دیکھتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمیں روٹی کا ایک لقمہ بھی اپنے منہ میں نہ ڈالنا پڑے۔ وہ دن بدن اپنے قریب تباہی کوآتے دیکھ رہے ہیں۔ انبیااکرام، پیغمبر،صحابہ اکرام اوراولیا اکرام سب نے محنت ومشقت کو اپنا شیوہ بنایا۔ہمارے پیارے نبی اپنے سارے کام خود سے کرلیا کرتے تھے۔ اور آپ نے ہمیشہ محنت ومشقت کی عظمت پر زور دیااور اسے عبادت کا درجہ دیا ۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا نام بھی تاریخ میں روزِروشن کی طرح عیاں ہو تو آپ کو بھی محنت ومشقت کو اپنی روز مرہ زندگی میں اپنانا ہوگا۔آج کادور الیکٹرا نک و سوشل میڈیا کادور ہے۔ ہم گھربیٹھے اپنے لیپ ٹاپ اور موبائل پر گوگل   کے ذریعہ سے دنیا کی تمام معلومات فورا حاصل کرلیتے ہیں مگر بدقسمتی سے ہم نے اپنی ساری انفرادی محنت جوہم ماضی میں خود سے تحقیق کے ذریعہ سے کیا کرتے تھے کو گوگل پر چھوڑدیا ہے۔جدید ٹیکنالوجی نے آج کے انسان کو سہل پسند بنا دیا ہے اور خاص طور پر ہماری نوجوان نسل اس سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔آج کا نوجوان محنت و مشقت کے لفظ سے ناآشنا ہے ۔وہ ہر کام میں شارٹ کٹ تلاش کرتاہے۔وہ کسی بھی امر کیلئے خود سے مشقت کرنا پسندنہیں کرتا۔اس کے ذمہ دار انکے والدین ہیں جو اُنکو پھولوں کی طرح پالتے ہیں اور محنت و مشقت کیلئے انہیں اس طور سے نہیں اُبھارتے جسطرح انہیں اُبھارنا چاہیے۔ آج کے والدین کو اپنی اولاد کے دلوں میں محنت کا جذبہ اجاگر کرناہوگا اور اسکو تربیت کا فعال حصہ بنانا ہوگا۔اگر آج ہم اس موضوع سے اپنی توجہ ہٹا لیں گے تو ہماری قو م میں سے عظیم شخصیات کا خاتمہ ہوجائے گا۔محنت ہماری شخصیت کی کُلی پہچان ہے۔ہمیں اس پیغام کو اپنی نئی نسلو ں تک ذمہ داری کیساتھ پہنچانا ہے تاکہ آنے والی تاریخ بھی ہماری نسلو ں کی گواہ ہو۔اور ہمیں محنت ومشقت اتنی خاموشی سے کریں کہ آپکی کامیابی شور مچا دے۔!!!